:
Breaking News

Cyber Crime: ایف آر آئی کے ذریعے 15 ماہ میں 5000 کروڑ روپے سے زائد کے ممکنہ سائبر فراڈ کا نقصان روکا گیا

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | Bihar News | Patna News | Samastipur News | دور دراز مواصلات کے محکمے کے مالی فراڈ خطرے کے اشارے ایف آر آئی نے 15 ماہ میں 5000 کروڑ روپے سے زائد کے ممکنہ سائبر فراڈ کے نقصان کو روکنے میں مدد کی۔

نئی دہلی، 8 ستمبر، Alam Ki Khabar۔ ملک میں تیزی سے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل مالی فراڈ کے خلاف دور دراز مواصلات کے محکمے کی ڈیجیٹل انٹیلی جنس نظام کو اہم کامیابی ملی ہے۔ محکمے کے مطابق Financial Fraud Risk Indicator یعنی FRI کی مدد سے گزشتہ 15 ماہ کے دوران ممکنہ سائبر فراڈ سے 5000 کروڑ روپے سے زائد کے مالی نقصان کو روکنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ یہ نظام بینکوں اور مالیاتی اداروں کو مشتبہ لین دین کی بروقت شناخت اور ضروری کارروائی میں مدد فراہم کر رہا ہے۔

FRI کو دور دراز مواصلات کے محکمے کے Digital Intelligence Platform کے تحت 22 مئی 2025 کو شروع کیا گیا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد موبائل نمبروں، ٹیلی مواصلاتی سرگرمیوں اور دستیاب دیگر معلومات کا تجزیہ کرکے ان معاملات کی نشاندہی کرنا ہے جہاں مالی فراڈ کا خطرہ موجود ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد متعلقہ مالیاتی اداروں کو کارروائی کے لیے ضروری معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔

یہ نظام محض ایک عام انتباہی طریقۂ کار نہیں ہے بلکہ مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کا تجزیہ کرکے خطرے کا اندازہ لگانے کے لیے تیار کیا گیا ایک کثیر جہتی نظام ہے۔ اس کے ذریعے بینکوں، Fintech کمپنیوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو ممکنہ فراڈ کے بارے میں بروقت معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تاکہ مشتبہ لین دین پر فوری توجہ دی جا سکے۔

وزارتِ مواصلات کے مطابق FRI نے اپنے ابتدائی چھ ماہ کے دوران ہی تقریباً 660 کروڑ روپے کے ممکنہ مالی نقصان کو روکنے میں مدد کی تھی۔ اس کے بعد اس نظام کا دائرۂ کار وسیع کیا گیا اور اب 15 ماہ کے دوران روکے گئے ممکنہ نقصان کی مجموعی رقم 5000 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ محکمہ اسے ڈیجیٹل مالی سلامتی کے میدان میں ایک اہم پیش رفت قرار دے رہا ہے۔

ڈیجیٹل لین دین میں مسلسل اضافے کے ساتھ سائبر جرائم پیشہ افراد بھی دھوکہ دہی کے نت نئے طریقے اختیار کر رہے ہیں۔ جعلی موبائل نمبرز، فرضی شناخت، فشنگ لنکس، سوشل انجینئرنگ، بینک افسر بن کر فون کرنا اور ڈیجیٹل ادائیگی کے ذریعے رقم ہتھیانا ایسے طریقے ہیں جن سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ٹیلی مواصلاتی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی معلومات مالی فراڈ کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

FRI کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ مالیاتی اداروں کو کارروائی کے قابل معلومات فراہم کرتا ہے۔ اگر کسی موبائل نمبر یا ٹیلی مواصلاتی سرگرمی میں مالی فراڈ کا خطرہ سامنے آتا ہے تو اس سے متعلق معلومات متعلقہ مالیاتی ادارے تک پہنچائی جا سکتی ہیں۔ اس بنیاد پر بینک یا دیگر ادارے مشتبہ سرگرمی کی مزید جانچ کر سکتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر صارف کے مفاد میں حفاظتی اقدامات اختیار کر سکتے ہیں۔

سائبر فراڈ کے خلاف اس نظام میں صرف دور دراز مواصلات کے محکمے کا کردار نہیں ہے۔ بینکنگ، Fintech، سیکیورٹیز، انشورنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان بہتر تال میل بھی اس مہم کا اہم حصہ ہے۔ مختلف شعبوں سے حاصل ہونے والی معلومات کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کرنے سے مشتبہ سرگرمیوں کی شناخت اور فوری کارروائی کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

مالی فراڈ کے معاملات میں وقت انتہائی اہم ہوتا ہے۔ دھوکہ دہی کے بعد رقم چند منٹوں یا گھنٹوں کے اندر مختلف بینک کھاتوں میں منتقل کی جا سکتی ہے۔ ایسے میں اگر مشتبہ سرگرمی کی اطلاع بروقت متعلقہ ادارے تک پہنچ جائے تو مالی نقصان کو محدود کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ FRI اسی ابتدائی انتباہی نظام کو مضبوط بنانے کی سمت میں کام کر رہا ہے۔

اس پیش رفت سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ سائبر جرائم کے خلاف جنگ میں صرف روایتی پولیس کارروائی کافی نہیں ہے۔ ٹیلی مواصلاتی نیٹ ورک سے حاصل ہونے والی تکنیکی معلومات کو مالیاتی اداروں کی نگرانی کے نظام سے جوڑنا بھی ضروری ہے۔ اس طرح مشتبہ سرگرمیوں کی شناخت پہلے مرحلے میں ممکن ہو سکتی ہے اور کارروائی میں تیزی لائی جا سکتی ہے۔

تاہم، ڈیجیٹل سلامتی کے ساتھ شہریوں کی رازداری اور ذاتی معلومات کا تحفظ بھی نہایت اہم ہے۔ خطرے کے کسی اشارے کی بنیاد پر کارروائی کرتے وقت درست شناخت، مناسب تصدیق اور مقررہ ضابطوں کی پابندی ضروری ہے، تاکہ بے قصور صارفین کو غیر ضروری پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

FRI کے ذریعے 15 ماہ میں 5000 کروڑ روپے سے زائد کے ممکنہ مالی نقصان کو روکنے کا دعویٰ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سائبر فراڈ کے خلاف مختلف اداروں کے درمیان تعاون کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ 22 مئی 2025 کو شروع ہونے والا یہ نظام اب ڈیجیٹل مالیاتی سلامتی کے لیے ایک اہم ذریعہ بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

جیسے جیسے ملک میں آن لائن بینکنگ، UPI اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کا استعمال بڑھے گا، سائبر جرائم کے طریقے بھی بدلتے رہیں گے۔ ایسے میں بروقت معلومات، جدید ٹیکنالوجی، مضبوط نگرانی اور مختلف اداروں کے درمیان بہتر تال میل ہی عام شہریوں کو مالی فراڈ سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: • Cyber Crime: آن لائن فراڈ سے بچنے کے لیے ان احتیاطی تدابیر کو نظر انداز نہ کریں • Digital Fraud: سائبر فراڈ کا شکار ہونے پر فوری طور پر کیا اقدامات کریں؟

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *